فروشگاه اینترنتی هندیا بوتیک
آج: Saturday, 19 September 2020

www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

501392
ھبہ ، ھدیہ ( تحفہ) بینکوں کے انعامات اور مھر و میراث
س۸۶۸۔ ھبہ اور عید کے تحفے ( عیدی) پر خمس ھے یا نھیں؟
ج۔ ھبہ اور ھدیہ پر خمس نھیں ھے۔ اگرچہ ان میں سے جو کچھ سالانہ اخراجات سے بچ جائے اس کا خمس نکالنا احوط ھے۔
س۸۶۹۔ آیا بینکوں اور قرض الحسنہ کے اداروں سے ان کے حصہ داروں کو ملنے والے انعامات پر بھی خمس ھے یا نھیں؟ اسی طرح وہ نقدی تحائف جو انسان اپنے شناسا افراد یا عزیزوں سے پاتا ھے،ا س پر بھی خمس ھے یا نھیں؟

502361
س۹۹۷۔ اگر خمس ادا کرنے میں آنے والے سال تک تاخیر ھوجائے تو اس کا کیا حکم ھے؟
ج۔ حکم یہ ھے کہ خمس ادا کیا جائے چاھے آئندہ سال ھی کیوں نہ ھو لیکن خمس کے سال کے داخل ھونے کے بعد اس مال میں تصرف کا حق نھیں ھے جس کا خمس ادا نھیں کیا ھے اور اگر خمس دینے سے قبل اس سے کوئی چیز یا زمین وغیرہ خرید لی تو خمس کی مقدار کے معاملے میں ولی امر خمس کی اجازت کے بعد اس ملکیت یا زمین کی موجودہ قیمت کے مطابق حساب کرے اور اس کا خمس ادا کرے۔

502361
س۸۸۲۔ میرے پاس کاروبار کے سالانہ منافع میں سے جو کچھ موجود ھے اس میں خمس واجب ھے اور میں فی الحال کسی حد تک مقروض بھی ھوں۔ سوال یہ ھے کہ کیا مجہ کو یہ حق ھے کہ میں اپنے مجموعی سالانہ منافع سے اس قرض کی رقم کو علیحدہ کرلوں؟ واضح رھے کہ قرض کا سبب نجی موٹر کار خریدنا ھے۔

502220
س۱۰۵۵۔ میں نے ۱۳۴۱ ء ھ ۔ش ۱۹۶۲ ء میں امام خمینی کی تقلید کی تھی اور ان کے فتوے کے مطابق رقوم شرعیہ انھی کی خدمت میں پیش کرتاتھا ۱۳۴۶ ء ھ۔ ش میں امام خمینی نے رقوم شرعیہ اور مالیات کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا :” خمس و زکوٰة حقوق شرعیہ ھیں اور مالیات حقوق شرعیہ میں شامل نھیں ھیں۔“ اور آج جبکہ ھم اسلامی جمھوریہ کی حکومت میں زندگی بسر کررھے ھیں ، امید ھے کہ ( اس زمانہ میں) رقوم شرعیہ اور مالیات ادا کرنے سے متعلق میرا فریضہ بیان فرمائیں گے؟

501392
س۱۰۳۳۔ میری والدہ سیدانی ھیں، لھذا مندرجہ ذیل سوالات کے جواب مرحمت فرمائیں:
۱۔ کیا میں سید ھوں۔
۲۔ کیا میری اولاد میرے پوتے پر پوتے وغیرہ سید ھیں؟
۳۔ وہ شخص جو باپ کی طرف سے سید ھو اور جو ماں کی طرف سے سید ھو ، ان دونوں میں کیا فرق ھے؟