فروشگاه اینترنتی هندیا بوتیک
آج: Wednesday, 02 December 2020

www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

اھل بیت علیھم السلام کی محبت اھل سنت کے ایمان کا جزء ہے "لولا علي لھلک عمر" درست ہے۔ علی اور صحابہ کے درمیان تمام

 تنازعات میں علی حق پر تھے۔ سات شیعوں کو مار کر جنت جانے کا عقیدہ رکھنے والے خارج از اسلام ہیں۔ اھل بیت علیھم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے مرتد ہیں۔ ھم حضرت علی علیہ السلام اور اھل بیت علیھم السلام کی فضیلت بیان کرنے کی نسبت حساسیت نھیں رکھتے۔ اسلام میں جھاد النکاح کا وجود نھيں ہے۔
مولوی علی احمد اسلامی المعروف "مولوی نذیر احمد" نے ابنا کے ساتھ نھایت صاف انداز میں گفتگو کی ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارھی ہے:
تعارف:
مولوی علی احمد سلامی المعروف "مولوی نذیر احمد" 1949 کو صوبہ سیستان و بلوچستان، ضلع سرباز، تحصیل کیشکور کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ھوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرباز کے مولانا تاج محمد بزرگ زادہ کی خدمت میں زانوئے تلمذ تھہ کئے اور اس کے بعد پاکستان جا کر مفتی اعظم مفتی محمد شفیع، مولانا محمد رفیع عثمانی، مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا شمس الحق اور مولانا سبحان محمود سے علم حاصل کیا اور دینی تعلیمات مکمل کردیں نیز ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں پوسٹ گریجویشن کی۔
وہ مجلس خبرگان قیادت میں سیستان و بلوچستان کے نمائندے اور عالمی مجمع تقریب بین المذاھب الاسلامیہ کی شورائے عالی (سپریم کونسل) کے رکن مذاھب اسلامی یونیورسٹی میں حنفی فقہ و قوانین فیکلٹی کے رکن نیز حوزہ علمیہ دارالعلوم زاھدان کے استاد ہیں۔
ان کی تالیفات میں "تاریخ اسلام"، "دعوت و تبلیغ کے اصول"، "رسول اللہ(ص) اور صحابہ کے زمانے کی مثالی خواتین"، "تین ھم سفر"، "آداب شریعت کے سائے میں زندگی کی کیفیت"، "واقعہ کربلا کا تاریخی تناظر" اور "ایک تحفہ خواتین کے لئے" خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ نیز انھوں نے بین الاقوامی فورموں میں پندرہ علمی مقالات بھی پیش کئے ہیں۔ ان موضوعات کی بنا پر مولوی علی احمد اسلامی ایران کے اھل سنت کے پائے کے بڑے علماء اور ممتاز اھل دانش میں شمار ھوتے ہیں اور اھل سنت کے تمام فقھی اور اعتقادی اصولوں پر عبور کامل رکھتے ہیں چنانچہ اھل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے مجلس خبرگان کے اجلاس کے موقع پر ان کی خدمت میں حاضر ھوکر دو موضوعات پر ان کے ساتھ گفتگو کی ہے:
1۔ حضرت علی علیہ السلام اھل سنت کی نظر میں
2۔ تکفیریوں اور سلفیوں کے نظریات کا ایک جائزہ۔
سوال: کم معلومات رکھنے والے نوجوانوں کہ لئے یہ جاننا بھت دلچسپ ہے کہ ھمارے امام اول کے بارے میں اھل سنت کی رائے کیا ہے؟ چنانچہ مھربانی فرما کر تاریخ کی اس عظیم الشان شخصیت کے بارے میں اھل سنت کی رائے بیان فرمائیں۔
جواب: بسم الله الرحمن الرحیم و به نستعین. اگر اجازت دیں تو میں اھل بیت رسول (ص) کی شان میں اھل سنت کی رائے بیان کروں اور اس کے بعد ھم علی(ع) تک پھنچیں۔
ابنا: بسم اللہ
سوال: اہل بیت(ع) کی محبت ھمارے ایمان کا جزء ہے اور ھم اس موضوع پر یقین رکھتے ہیں۔ ھم اپنی نمازوں میں رسول اللہ(ص) اور اھل بیت رسول(ص) پر درود بھیجتے ہیں؛ یہ درود ھماری صحاح میں ثبت ھوا ہے اور ھم اس کے بغیر نماز کو ناقص سمجھتے ہیں۔ جو صلوات ھم بھیجنا واجب سمجھتے ہیں اور اس پر یقین رکھتے ہیں وہ کچھ یوں ہے: "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ كمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ"۔ ھم ھر نماز جماعت، فرادی اور نماز شب و تھجد میں یہ دعا پڑھتے ہیں اور یہ درورد رسول خدا(ص) اور آل رسول(ص) پر بھیجتے ہیں۔
نیز اھل سنت کی نماز جمعہ کے خطبوں میں جھاں خطبہ عربی میں پڑھا جاتا ہے یہ الفاظ اور کلمات پڑھے جاتے ہیں "الحسن والحسين سيدا شباب اهل الجنة وفاطمة سيدة نساء اهل الجنة" وہ الفاظ ہیں جو خطباء ادا کرتے ہیں اور اھل سنت سامعین انھیں سنتے ہیں اور ان پر یقین و اعتقاد رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر جو المیہ کربلا میں رونما ھوا اور امام حسین(ع) شھید ھوئے، اھل سنت کے حقیقی علماء اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور کربلا میں امام حسین(ع) کی حمایت و تمجید میں اھل سنت نے مقالات شائع کئے ہیں۔
اس سلسلے میں برصغیر کے علمائے اھل سنت جیسے "ابوالاعلی مودودی"، "ابوالکلام آزاد"، اور پاکستان کے سابق مفتی اعظم "مولانا محمد شفیع" نے کتابیں لکھیں۔ مولانا محمد شفیع نے ایک کتاب لکھی ہے بعنوان "شھید کربلا"، اور اس کے دیباچے میں لکھا ہے: "کربلا کے المئے پر نہ صرف لوگ روئے بلکہ اس پر ماھتاب و آفتاب اور چاند اور سورج اور آسمان روئے"۔
میں نے بھی وہ تمام آراء اکٹھی کرلی ہیں جو اھل سنت اور اھل تشیع نے واقعہ کربلا کے اسباب فراھم کرنے والے فرقے کی مذمت میں بیان کی ہیں اور یہ فرقہ خوارج کے گمراہ فرقے کے ساتھ فکری طور پر ھمآھنگ ہے؛ نیز وہ باتیں جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقدامات کی حمایت میں سامنے آئی ہیں اور اخبارات اور مقالات اور کتب کے ضمن میں بیان ھوئی ہیں۔ ان میں سے اکثر کی زبان اردو ہے جنھیں ایک کتاب کے ضمن میں اشاعت کا پروگرام ہے اور اس کتاب کا نام ہے"واقعہ کربلا کا تناظر"۔
سوال: حضرت امیرالمؤمنین(ع) کی شان میں؟
جواب: آپ(ع) کی عبادت بھت نمایاں تھی؛ آپ(ع) کی شجاعت بھت نمایاں تھی، آپ(ع) کا تقوی نمایاں تھا؛، آپ(ع) کی شخصیت نمایاں تھی اور ھمارے صحیح منابع اور مصادر میں یہ سب موجود ہے۔
حضرت علی(ع) رسول اللہ(ص) کے داماد ہیں اور رسول اللہ(ص) کی نسل علی(ع) اور فاطمہ زھراء (س)سے چلی ہے۔ سادات سب فاطمہ زھراء(س) اور علی(ع) کے فرزند ہیں۔ ھم ان سب حقائق کو تسلیم کرتے ہیں۔
آنحضرت(ص) کے علم کے بارے میں رواائی منابع میں ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا: "انا مدينة العلم وعلي بابها"؛ (میں علم کا شھر ھوں اور علي اس کا دروازہ ہیں)؛ نیز فرمایا: "علي اقضاكم" (علي تم میں سے سب سے بھتر فیصلے کرنے والے ہیں)، اور ایک موقع پر فرمایا: "اقضاهم علي ابن ابي طالب"۔ یعنی قضاوت اور فیصلے کرنے میں اصحاب میں ماھرترین اور عالمترین حضرت علی(ع) تھے۔
خیبر کا درواز حضرت علي(ع) نے کھولا اور رسول اللہ(ص) نے ایک روز قبل فرمایا: کل میں پرچم ایسے فرد کے حوالے کرنے والا ھوں کہ وہ خیبر کو فتح کرے گا۔ اصحاب سب منتظر تھے کہ کل پرچم ان کے سپرد کیا جائے لیکن صبح رسول اللہ(ص) فرمایا کہ علي کو بلاؤ۔ اصحاب نے کھا کہ علی(ع) آشوب چشم ميں مبتلا ہیں۔ رسول اللہ(ص) نے مبارک لعاب دھن کو علی(ع) کی آنکھوں پر لگایا اور آپ(ع) کی آنکھیں ٹھیک ھوگئیں اور پرچم کو ھاتھ میں لیا اور قلعہ خیبر کو فتح کیا۔ یہ حضرت علی(ع) کی شجاعت کا مظھر ہے۔
سوال: ھمارا عقیدہ ہے کہ سورہ مائدہ کی آیت 55 " إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ" حضرت علی(ع) کی شان میں نازل ھوئی ہے جنھوں نے نماز کی حالت میں اپنی انگشتری سائل کو عطا فرمائی؛ کیا آپ اس پر یقین رکھتے ہیں؟
جواب: اس کے بارے میں کئی تفسیریں پائی جاتی ہیں۔ اس کا ایک مصداق شاید آپ(ع) ھوں یا شاید اس کے دوسرے مصادیق ھوں۔ اگر مصداق واقعی علی(ع) ھوں تو اس میں کوئی حرج نھيں ہے اور اس پر ھمیں غصہ نھیں آتا؛ کیونکہ حضرت علی(ع) اس مقام کے لائق ہیں۔
نیز سورہ ھل اتی میں جھاں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: "وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيناً وَيَتِيماً وَأَسِيراً"؛ بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی(ع)، حضرت زھرا(س) اور ان کے فرزند حسن و حسین روزہ رکھے ھوئے تھے اور افطار کے وقت ایک مسکین آیا، ایک روز ایک یتیم آیا اور تیسرے روز ایک اسیر آیا اور انھوں نے اپنے افطار کا کھانا محتاجوں کو دیا؛ یہ تفسیری روایات ہیں اور بعض لوگوں نے دوسری تفاسیر پیش کی ہیں اور دوسرے مصادیق ذکر کئے ہیں۔ اگر فرض کریں کہ مصداق علی(ع) ھوں تو ھمارے حساسیت کا سبب نھیں ہے۔ وہ لوگ حساسیت پیدا کرتے ہیں (اور الرجک ھوجاتے ہیں) جو خدا نخواستہ حضرت علی(ع) کے فضل اور عظمت و بزرگواری کو برداشت نہ کرسکتا ھو۔ ھم اگر حضرت علی(ع) اور اھل بیت(ع) کی فضیلت بیان کریں تو خوش ھوا کرتے ہیں اور ھم اس حوالے سے کوئی حساسیت اور ناچاقی (friction) نھیں کرتے۔
سوال: لیکن ھم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ جو اھل سنت کھلواتے ہیں، فضائل اھل بیت(ع) سے خوش نھیں ھوتے بلکہ وہ منکر ہیں اور حتی کہ اللہ کی پناہ، توھین اور بےحرمتی کرتے ہیں۔ اس شخص کے بارے میں آپ کے ھاں شرعی حکم کیا ہے جو حضرت علی(ع) یا اھل بیت عصمت و طھارت(علیھم السلام) کی توھین اور ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں؟
جواب: میں یقین کامل کے ساتھ آپ سے کھتا ھوں کہ جو بھی سنی اھل بیت (ع) کی توھین کرے نہ صرف اھل سنت سے تعلق نھیں رکھتا بلکہ مرتد اور اسلام سے خارج ہے۔
سوال: اھل سنت کے متعدد منابع و مصادر ـ جیسے محمود بن عبداللہ الآلوسی کی تفسیر "روح المعانی"، ابن ابی الحدید کی شرح نھج البلاغہ، امام شافعی کی الحافی، حنفی القندوزی کی "ینابیع المودہ" اور درجنوں دیگر کتب میں ہے کہ جناب عمر نے کھا: "لولا علی لهلك عمر"۔ ایک سنی عالم و صاحب دانش کی حیثیت سے آپ اس کے بارے میں کیا فرمانا چاھیں گے؟
جواب: بعض قضایا میں حضرت عمر نے ایک مسئلے کا فیصلہ کیا جو غلط تھا چنانچہ حضرت علی(ع) جو ان کے قریب تھے، نے انھیں متوجہ کرایا کہ یہ مسئلہ ایسا نھیں ہے بلکہ ایسا ہے اور حضرت عمر نے فورا قبول کیا اور فرمایا: "لولا علی لهلك عمر"؛ یعنی اگر علی نہ ھوتے تو میں ھلاک ھوجاتا۔
سوال: کیا یہ جناب عمر پر حضرت علی(ع) کی علمی فوقیت و ارجحیت کا ثبوت نھیں ہے؟
جواب: کیوں نھیں؛ اس حقیقت کے سب معترف ہیں اور ناممکن ہے کہ کوئی سنی اس موضوع کو قبول نہ کرتا ھو۔
سوال: ھمارے پاس ایک روایت ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا کہ "علي مع الحق والحق مع علي"، آپ بھی اس بات کو مانتے ہیں؟
جواب: ھاں! اھل سنت کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی(ع) اور صحابہ کے درمیان رونما ھونے والے تمام تنازعات میں حضرت علی(ع) حق پر تھے؛ جیسے حضرت علی(ع) اور معاویہ کے درمیان اختلاف اور آپ(ع) کا حضرت عائشہ کے ساتھ اختلاف۔
سوال: پس آپ کا اعتقاد نھیں ہے کہ صحابہ معصوم ہیں؟
جواب: ابتدا میں مجھے صحابی کی صحیح تعریف کرنے دیں۔ ھمارے مذھب کے مطابق صحابی وہ ہے جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ(ص) کو دیکھا ھو اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ھوا ہے۔ یہ صحابی معصوم نھیں ہے لیکن محترم ہے۔ صحابہ کے مختلف درجات اور مراتب ہیں لیکن ان کی حرمت ھمارے لئے محفوظ ہے۔
سوال: کیا آپ تمام صحابہ کی نسبت حضرت علی(ع) کی برتری اور ارجحیت کو تسلیم کرتے ہیں؟
جواب: ھاں! سابقہ سوال کے جواب میں میں نے کھا کہ رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے بھترین فیصلے کرنے والے علی ہیں۔ ھم نماز جمعہ کے خطبوں میں کھتے ہیں "اقضاهم علي" اقضا اسم تفضیل ہے یعنی قاضی ترین۔ قضاوت علم کے بغیر ممکن نھیں ہے۔ لھذا جب حضرت علی(ع) اقضا یعنی قاضی ترین ہیں، اعلم بھی ہیں یعنی صحابہ کے عالم ترین فرد ہیں۔
البتہ ھم کھتے ہیں یہ دوسرے صحابہ دوسرے معاملات میں مھارت رکھتے تھے مثلا عمر ایک پھلو میں اور ابوبکر دوسرے پھلو میں لیکن "اقضاهم علي" ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
سوال: کیا آپ یہ باتیں اس لئے نھیں کررھے ہیں کہ میں ایک شیعہ نامہ نگار ھوں؟
جواب: ھرگز نھیں! حضرت علی(ع) کے حق میں خوبی اور فضیلت کے سوا کوئی دوسرا تصور نھيں رکھا جاسکتا۔ میں جو بھی آپ(ع) کے بارے میں کھنا چاھوں نیکی اور خوبی ہے۔
سوال: یعنی اگر کوئی منبر فراھم ھوجائے جھاں کے سامعین سنی بھی ھوں اور شیعہ بھی ھوں آپ یہ باتیں حضرت علی(ع) کی شان میں زبان پر لائيں گے؟
جواب: میرے پاس حضرت علی(ع) کے بارے میں خوبی اور نیکی کے سوا کھنے کو کچھ نھيں ہے، اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرنا چاھوں گا۔
ابنا: بسم اللہ
مولوی نذیر احمد: ایک رات ھم شیعہ اور سنی علماء کے ھمراہ زاھدان سے محاذ جنگ کی طرف جارھے تھے۔ سیرجان جب پھنچے تو وھاں ھم سپاہ پاسداران کے مھمان تھے۔ کھا گیا کہ کھانا کھانے کے بعد تقاریر کا اھتمام کیا جائے اور ایک شیعہ عالم اور ایک سنی عالم تقریر کریں۔ جب میری باری آئی تو میں نے اھل بیت(ع) کے بارے میں اھل سنت کا عقیدہ اسی طرح بیان کیا جیسا کہ آج آپ سے بیان کیا۔ تقریب اختتام پذیر ھوئی تو سپاہ کے افسر اور جوان آکر میرے ارد گرد بیٹھ گئے اور کھنے لگے: آپ کو اللہ کی قسم دلاتے ہیں کھہ دیں کہ واقعی آپ اھل سنت کا عقیدہ یھی ہے؟ میں نے کھا: میں قسم کھانے کے لئے تیار ھوں کہ پوری دنیا میں اھل بیت کے بارے میں اھل سنت کا عقیدہ یھی ہے۔
اب میرے اس مدعا کو عینی مصداق دینے کے لئے اھل تشیع کے درمیان میرے لئے ایک منبر فراھم کریں تا کہ میں "حضرت علی کے فضائل" اور "حضرت علی سنی نقطہ نظر سے" کے موضوع پر تقریر کروں۔
سوال: شیعہ بھی فضائل اھل بیت(ع) کے بارے میں اسی عقیدے کے سوا دوسرا عقیدہ نھیں رکھتے جو آپ نے فرمایا ہے، پس ھم پاکستان، عراق، شام، بحرین اور کبھی کبھی ایران اور افغانستان میں ھم "شیعہ کُشی" کے واقعات کا سامنا کررھے ہیں؟ حتی کہ کھا جاتا ہے کہ بعض سنی علماء نے فتوی دیا ہے کہ جو بھی سات شیعوں کو قتل کرے وہ جنتی ہے! کیا یہ بات کسی اصول پر استوار ہے؟ کیا اسلام نے کھا ہے کہ مسلمانوں کو قتل کروگے تو جنت جاؤگے؟
جواب: میرا خیال ہے کہ کسی گروہ کا یہ عقیدہ تحریری طور پر موجود نھیں ہے۔ انتھا پسند اھل تشیع کے خلاف ہیں؛ پاکستان کی سپاہ صحابہ کی طرح یا شام میں جبھۃالنصرہ کی طرح۔ ممکن ہے کہ وہ اس کام کو ثواب کے طور پر انجام دیں اور دعوی کریں کہ وہ جو مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں، در حقیقت سنت کی پیروی کرتے ہیں لیکن یہ دعوی جھوٹا ہے۔ سنت میں ایسی کوئی چیز نھيں پائی جاتی۔
روایات میں ہے کہ رسول خدا(ص) نے مجاھدین کو جھاد کے لئے روانہ کیا پھر ان سے فرمایا کہ جس گاؤں میں بھی جاؤ اور وھاں تمھیں اذان کی صدا سنائی دے، انھیں مت چھیڑو۔ یعنی اگر اس گاؤں میں صرف ایک مسلمان ھو تو تمھیں جھاد کرنے کا حق نھیں ہے۔ یھی کہ تم جان لو کہ وہ مسلمان ہیں، ان کی طرف دست درازی مت کرو۔ اگر کسی کا عقیدہ ھو کہ کسی مسلمان کو مار کر وہ جنت جائے گا تو اس کا یہ خیال عقیدہ نھیں ہے بلکہ خرافات ہے۔ یہ کسی بھی دینی، شرعی اور اعتقادی بنیاد پر استوار نھیں ہے، بلکہ یہ جذبات اور خرافات و توھمات ہیں۔ اس موضوع پر عمل کرنے والے جاھل افراد کو وسیلہ قرار دیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈال دیں۔
سوال: پس یہ جو کھا جاتا ہے کہ اگر سات شیعہ افراد کو قتل کرو تو جنت جاؤگے، خرافات ہے اور جو لوگ دعوی کرتے ہیں کہ اس طرح وہ سنت پر عمل کررھے ہیں، جھوٹے اور کذاب ہیں؟
جواب: مکمل طور خرافات ہے۔ میرا اپنا عقیدہ ہے کہ جو اس قسم کا عقیدہ رکھے وہ خارج از اسلام ہے۔
سوال: ھم بعض جرائم کا مشاھدہ کرتے ہیں جیسے امام بارگاھوں اور مسجدوں میں بم دھماکے، شیعیان آل رسول(ص) کو مثلہ کرنا اور ان کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور مسلمانوں کا جگر کھانا وغیرہ ۔۔۔ آپ ان افسوسناک واقعات کے بارے میں کیا کھنا چاھیں گے؟
ج: یہ شدت پسند گروپ ہیں اور کسی صورت میں بھی مسلمان نھيں ہیں۔ اگر وہ مسلمان بھی کھلوائیں پھر بھی نادان، جذباتی اور شدت پسند اور انتھا پسند ہیں جو دشمنوں کے آلہ کار بنے ھوئے ہیں۔
میں ایک عام قانون عرض کرتا ھوں: جو بھی عقیدہ رکھے کہ شیعہ کو مذھب تشیع کی طرف رجحان رکھنے کے بموجب، قتل کرنا اجر و ثواب کا باعث ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
سوال: پس آپ کی رائے میں ان اعمال کا ارتکاب کرنے والے دشمنوں ـ منجملہ اسلام کے قسم خوردہ دشمن ـ اسرائیل کے ھمفکر اور ان کے مفاد میں سرگرم عمل ہیں؟
جواب: بالکل! جو بھی عمل جو ایک مسلمان انجام دے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفاد میں ھو، یہ براہ راست ان کی خدمت ہے۔
سوال: لیکن آپ کی یہ باتیں آل سعود سے وابستہ سنی علماء کی باتوں سے متصادم ہیں۔ یہ جو اصطلاح میں وھابی کھلاتے ہیں اپنے سوا دوسرے تمام مسلمانوں ـ بطور خاص اھل تشیع ـ کو کافر سمجھتے ہیں؛ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: میں اس موضوع کے سیاسی پھلو نھیں چھیڑنا چاھتا بلکہ اس کے علمی پھلو کے بارے میں بات کرتا ھوں: دنیا میں کوئی بھی ایسا گروہ موجود نھیں ہے جو اپنے آپ کو وھاب سمجھے۔ یعنی ایسا کوئی گروہ یا فرقہ عملی طورموجود نھیں ہے جو وھابی کھلوائے۔ پھلی صدی ھجری کے آخر اور دوسری صدی ھجری کے آغاز پر عبدالوھاب بن عبدالرحمن بن رستم نامی شخص نے قرن افریقہ (Horn of Africa) میں اٹھ کھڑا ھوا جو خوارج میں سے تھا ان ھی خارجی عقائد و افکار کے ساتھ۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو وھابی کا نام دیا کیونکہ اس گروہ یا فرقے کے بانی کا نام عبدالوھاب تھا۔ اس کا عینا یھی عقیدہ تھا کہ "کوئی بھی ھمارے سوا، مسلمان نھيں ہے" وہ تمام مساجد کو مساجد ضرار کا لقب دیتا تھا! لیکن یہ فرقہ دوسری صدی کے نصف دوئم تک پھنچے سے قبل منقرض اور ختم ھوا اور اس وقت اس کا کوئی اثر نھیں ہے۔
سوال: پس جن لوگوں کو ھم اس وقت وھابی کا نام دیتے ہیں، ان کا یہ نام اور عنوان کیونکر توجیہ پذیر ھوسکتا ہے؟
جواب: جن لوگوں کو ھم اس وقت وھابی کھتے ہیں، وہ خود وھابی نھیں کھلواتے بلکہ ان کا خیال ہے کہ وہ "سلفی" ہیں۔
لغت کے اعتبار سے ھم اور آپ سب سلفی ہیں کیونکہ لفظ "سلفیت" سلف صالح کی پیروی کے معنی میں آیا ہے یعنی ماضی میں گذرے ھوئے نیک لوگ۔ شیعہ اور سنی سب اپنے سلف صالح کی پیروی کرتے ہیں۔ پس ھم لغوی اعتبار سے سلفی ہیں؛ تاھم اصطلاحی لحاظ سے سلفیت کی جڑیں علمی اور تاریخی مسائل میں پیوست ہیں جو میں عرض کرتا ھوں:
دوسری صدی میں جب اسلام کی علمی غنا اور بےنیازی عمل کا جامہ پھن چکی اور تفسیر و حدیث کی کتب کی تدوین ھوئی، دشمنان اسلام اسلام کے اصولوں کو متزلزل کرنا چاھتے تھے۔ انھوں نے یونانی فلسفہ اسلامی علوم میں گھسیڑ دیا اور یونانی فلسفے کے اصولوں کے تحت قرآن اور روایات و احادیث پر اعتراض کرنے لگے تاکہ انھیں کمزور کردیں اور ان کے اعتبار اور قدر و قیمت کو گھٹا دیں۔ مثلا وہ کھنے لگے کہ "تمھارا قرآن کھتا ہے کہ خدا کے ھاتھ ہیں"، یا قرآن کھتا ہے کہ "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" یعنی خداوند متعال نے دنیا کو بنایا اور تخت پر بیٹھ گیا؛ یا تمھاری احادیث میں ہے کہ خدا کے پاؤں ہیں۔ حالانکہ ھاتھ، پاؤں اور اٹھنا بیٹھنا جسم کے خواص ہیں اور جو جسم ہے وہ حادث (یعنی بعد میں معرض وجود میں آنے والا) ہے، جبکہ خدا قدیم ہے۔ وہ ان اعتراضات اور یونانی فلسفی اصولوں کی مدد سے اسلام کے منبع یعنی قرآن اور حدیث نبوی(ص) کو مخدوش اور کمزور اور بےاعتبار کرنا چاھتے تھے۔
ان اعتراضات کے مقابلے میں علمائے اسلام دو گروھوں میں بٹ گئے۔ یعنی انھوں نے دو الگ الگ مواقف اپنائے: ان علماء میں سے ایک گروہ نے ان اعتراضات کے سامنے توقف کیا اور خاموش رھے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ "ھم مانتے ہيں کہ خدا کا ھاتھ ہے، خدا کے پاؤں ہیں، خدا عرش پر بیٹھتا ہے لیکن ھم اس کی کیفیت کو نھیں جانتے۔ قرآن اور روایات میں یہ ظاھری الفاظ ہیں اور ان کا انکار نھیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ کہ خدا کا ھاتھ کیسا ہے؟ خدا کا چھرہ کیسا ہے؟ خدا کس طرح عرش پر بیٹھ گیا؟ وغیرہ ۔۔۔ نہ تو اس کی کیفیت کو جاننا ھمارا فریضہ ہے اور نہ ھی ھم پر اس کی تفسیر و تاویل کی ذمہ داری عائد ھوتی ہے۔ اس گروہ کا نام "سلفی" ٹھہر گیا۔
مثال کے طور پر امام مالک بن انس سے پوچھا گیا کہ "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" کی کیفیت کیا ہے؟ فرمایا: "عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" حق ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے"۔ یعنی اس بارے میں سوال پوچھنا کہ عرش پر خدا کے بیٹھنے کی کیفیت کیا ہے، بیھودہ سوال ہے۔ اس کی کیفیت مجھول (نامعلوم) ہے؛ ھم نھیں جانتے کس طرح بیٹھا۔ تاھم اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ نہ ھم اس کی کیفیت کو جانتے ہیں اور نہ ھی اس کی کیفیت جاننا ھمارا فرض ہے۔ یھی درست اور کافی ہے کہ ھم اس پر ایمان لائیں۔
دوسرا گروہ ان علماء کا تھا جنھوں نے قرآن کے غامض اور پیچیدہ مسائل کی تفسیر و تاویل کا اھتمام کیا۔ مثال کے طور پر انھوں نے کھا کہ خدا کے ھاتھ سے مراد خدا کی قوت و قدرت ہے۔ یہ جو خداوند متعال نے فرمایا کہ "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى"، یعنی اس نے اس عالم کا اقتدار و انتظام سنبھالا۔ یعنی ایسا نھیں ہے کہ خدا ایک معمار اور انجنئیر کی طرح ھو جس نے ایک عمارت کا نقشہ تیار کیا ھو لیکن اب وہ نھیں جانتا کہ اس عمارت کی حالت کیا ہے؛ خدا اس طرح نھيں ہے؛ اس نے کائنات اور عالم وجود کو بنا دیا ہے اور اس کا انتظام و انصرام کررھا ہے اور عالم وجود کے تمام ذرات اس کے علم اور قدرت کے تحت ہے۔
پس ملحدین کے شبھات کے مقابلے میں سلفی اور غیر سلفی الگ الگ ھوئے۔ جو لوگ تاویل نھیں کرتے وہ سلفی کھلائے اور جو تاویل و تفسیر کرتے ہیں وہ غیر سلفی کھلائے۔ سلف کا عقیدہ یہ ہے کہ ھم قرآن و سنت کے پیچیدہ مسائل پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں سوال پوچھنے کو بیھودہ سمجھتے ہیں۔ ان کی کیفیت ھمارے لئے نامعلوم ہے لیکن ان پر ایمان لانا واجب ہے۔
سلفیوں کے کئی گروپ ہیں اور وھابی ان کے درمیان ایک جاھل، کم خواندہ اور کم بصیرت گروپ ہے۔
سوال: علمی اختلاف اور ان جرائم کے درمیان کیا نسبت ہے؟
جواب: اگر ھم مسلمانان عالم کو تین گروھوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
۱۔ "نصی، ظاھری، جذباتی گروہ"
یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کی ایک عبارت یا اسی نص قرآن کو اپنے اعمال کی بنیاد قرار دیتے ہیں اور جذباتی انداز میں عمل کرتے ہیں۔ یعنی وہ قرآنی نصوص اور عبارات کو رسول خدا(ص)، ائمہ اور اصحاب کے عمل کی کسوٹی پر نھیں پرکھتے کہ اس طرح اس سے ایک مشترکہ صورت نکال سکیں۔ یہ لوگ اکثراً جاھل، ناخواندہ اور کم بصیرت ہیں، حتی کہ وہ اپنے منھج و روش کے بھی پابند نھیں ہیں۔ اس طبقے کے افراد علمی لحاظ سے بھت نیچے اور جاھل ہیں۔ جو لوگ دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں ان کا تعلق اسی گروپ سے ہے۔ اس گروہ کے بعض افراد سلفی بھی ہیں۔ اس گروہ کے سلفی اپنے آپ کو وھابی نھيں سمجھتے بلکہ سلفی سمجھتے ہیں؛ لیکن ھم انھيں وھابی کھتے ہیں۔ وہ قرآن و سنت کی ظاھری صورت کی طرف توجہ دیتے ہیں اور دوسروں کو مسلمان نھيں سمجھتے۔ ان لوگوں کی روش ان ھی وھابیوں کی مانند ہے جو دوسری صدی ھجری میں گذرے ہیں (جو خارجی تھے)۔
۲۔ "نصی، عقلی اور غیر جذباتی گروہ"
عالم اسلام کے اکثر مسلمانوں کا تعلق اس گروہ سے ہے۔ وہ نص پر عمل کرتے ہیں لیکن اول الذکر گروہ کی طرف صرف ایک نص کی ظاھری صورت کا سھارا نھيں لیتے بلکہ قرآن مجید کی عبارت کا رسول اللہ(ص)، ائمہ اور اصحاب کی تفسیر سے تقابلی جائزہ لیتے ہیں اور ایک صحیح معنی و مفھوم اخذ کرتے ہیں اور ان تفاسیر کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی مدد لیتے ہیں۔ وہ نامعقول حرکتیں نھیں کرتے اور ان کی پوری توجہ دینی اور اسلامی معارف و تعلیمات کی ترویج و تبلیغ پر مرکوز ہے۔ یہ لوگ اسلامی حکومت کی تشکیل سے بھی زيادہ دلچسپی ظاھر نھيں کرتے بلکہ تالیف و تدریس اور تبلیغ میں مصروف ہیں۔ وہ کھتے ہیں: ھم یہ کام انجام دیتے ہیں، لوگ صالح و سالم ھوجاتے ہیں اور حکومت خود بخود اسلامی ھوجاتی ہے۔ درحقیقت یہ لوگ اسلامی حکومت کی تشکیل کو ثانوی اھمیت دیتے ہیں۔
۳۔ "جدید نصی، عقلی و غیر جذباتی گروہ"
یہ لوگ اعتقادی لحاظ سے مؤخر الذکر گروہ کی مانند ہیں لیکن ان کا پھلے درجے کا ھدف اسلامی حکومت کی تشکیل ہے۔ یہ گروہ تقریبا 130 سال قبل معرض وجود میں آیا۔ اس گروہ کے ابتدائی افراد سید جمال الدین افغانی (اسد آبادی)، اور ان کے شاگرد مفتی شیخ محمد عبدہ، تھے اور ان کے بعد علامہ رشید رضا، شیخ حسن البناء، اخوان المسلمین کے بانی سید قطب اور سید ابوالاعلی مودودی اور حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، تک اسی گروہ کے افراد ہیں۔ انھوں نے پھلے درجے میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کی اور حکومت کے قیام کو اپنے اھم ترین اھداف و مقاصد میں قرار دیا۔ یہ جدید مفکرین ہیں، جو زبان سے بات کرتے ہیں، عصری تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں؛ اور اسلامی حکومت کو عصری تقاضوں کے مطابق قائم کرنا چاھتے ہیں۔
اب جب آپ اول الذکر گروہ کے اصولوں اور کارکردگی میں غور کریں گے تو ان جرائم ـ جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا ـ اور علمی اختلاف کے درمیان فرق واضح ھوتا ہے۔
سوال: شام کے بےگناہ عوام تکفیری اور سلفی گروھوں کے ھاتھوں ـ جو آپ کے بقول اسرائیل اور امریکہ کے جھانسے میں آئے ہیں ـ مارے جارھے ہیں، اور ان کا خون بلا وجہ بھایا جارھا ہے۔ اھل سنت کے ایک عالم کی حیثیت سے شام کے مسائل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: اھل سنت کے علماء کی آراء مختلف ہیں، بعض شام کے مخالفین کی حمایت کرتے ہيں اور بعض شام کی حکومت کی۔
سوال: شام پر حملے کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
جواب: میری رائے یہ ہے کہ ھر فعل، جس کسی کی طرف سے امریکہ، اسرائیل اور استکبار کے مفاد میں، انجام پائے، وہ قابل مذمت ہے۔ ھم کسی بھی ملک پر حملہ جائز نھيں سمجھتے۔ میں شام، پاکستان اور افغانستان پر انجام پانے والے حملوں کو جائز نھيں سمجھتا۔ ان تمام ممالک میں بےگناہ انسان مارے جارھے ہیں۔
ان حملوں کی بنیاد القاعدہ ہے اور اکثر حملے خودکش ھوتے ہیں۔ یہ اسلام اور شرع کے لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ اسلام اس عمل کی اجازت نھیں دیتا۔ اسلام اگر جھاد کا حکم دیتا ہے تو اس کی اپنی شرطیں ہیں۔ اسلام کفار کے خلاف جھاد کرتا ہے، مسلمانوں کے خلاف ھرگز۔
سوال: شام میں شروع کئے جانے والے جھاد النکاح کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: اولا: یہ لفظ غلط ہے کیونکہ جھاد کفار کے خلاف ھوتا ہے نہ کہ مسلمانوں کے خلاف۔
ثانیا: یہ نام نھاد جھاد اصولی طور پر شرعی نھیں ہے۔ اسلام میں جھاد النکاح کا وجود نھيں ہے۔ جو لڑکیاں جھاد النکاح کے عنوان سے اپنے آپ کو افراد کے اختیار میں دیتی ہیں شرعی لحاظ سے خودکشی کا ارتکاب کررھی ہیں۔
سوال: تکفیری شام میں رسول اللہ(ص) کے فرزندوں اور صحابہ کے حرم اور قبور کو منھدم کررھے ہیں کیا ان کے اس فعل کو اسلام کی تائید حاصل ہے؟
جواب: یہ جو مقدس مقامات کو تباہ کرتے ہیں اگر سلفی ھوں تو میں نے عرض کیا کہ یہ نصی، ظاھری اور جذباتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ قبر کو گنبد و بارگاہ بنانا اور اینٹ اور سیمنٹ سے کام لینا نادرست ہے۔ وہ کھتے ہیں کہ "ھمارے پاس روایت ہے کہ قبر کے اوپر عمارت اور گنبد تعمیر نھیں کرنا چاھئے۔
لیکن مسلمانوں میں سے ایسے افراد بھی ہیں جو قبور کے اوپر عمارت اور گنبد بنانے کے قائل ہیں۔ پس حکومت شام کے مخالفین کو دوسروں کے اعتقادات کا احترام کرنا چاھئے۔ وھابی مخالفین اگر اس امر کے معتقد نھیں ہیں تو وہ خود قبور پر عمارت اور گنبد و بارگاہ نہ بنائیں۔ دوسروں کے اعتقادات پر حملہ نھيں کرنا چاھئے۔ ان مقابر کا انھدام جرم ہے اور باعث گناہ ہے۔
سوال: آپ نے فرمایا کہ ھم اھل سنت امام حسین(ع) کے معتقد ہیں۔ جب ایک شخص ایک شخصیت کا معتقد ھوتا ہے، فطری امر ہے کہ اس کے فرزندوں کے لئے بھی احترام کا قائل ھوتا ہے۔ لیکن ھم دیکھتے ہیں کہ حکومت شام کے مخالفین حضرت زینب(س)، حضرت سکینہ(س) اور حضرت رقیہ سلام اللہ علیھن کے حرم پر حملہ آور ہیں، جو رسول اللہ(ص) اور امام حسین(ع) کے گوشت و خون سے ہیں۔ کیا یہ گستاخیاں رسول اللہ(ص) کی ذات بابرکات کی شان میں توھین و گستاخی نھيں کے زمرے میں نھیں آتے؟
جواب: ایسا ھی ہے۔ مراقد کا انھدام ـ نہ صرف اس لحاظ سے کہ رسول اللہ(ص) کے فرزندوں کا مدفن ہیں ـ جائز نھیں ہیں بلکہ مقدسات اور بزرگوں کے مراقد کی تخریب شرعی لحاظ سے بھی جائز نھيں ہے کیونکہ جن لوگوں نے یہ مراقد بنائے ہیں وہ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں اور لوگوں کے معتقدات کو محفوظ رھنا چاھئے۔
قرآن مجید نے تو حتی یہ تک فرمایا ہے کہ "َلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ"، تم ان لوگوں کی بےحرمتی بھی مت کرو جو غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں ۔۔۔؛ خلاصہ یہ کہ شرعی لحاظ سے مقامات مقدسہ، مساجد، امام بارگاھوں افراد کے مقابر وغیر کی توھین و تخریب کا حق نھيں پھنچتا۔
سوال: وھابیوں کی یہ تخریبی کاروائیاں شام تک محدود نھيں ہیں بلکہ مدینہ منورہ بھی ان واقعات سے محفوظ نھیں رھا ہے، بقیع میں رسول اللہ(ص) کے جگرگوشوں کے مراقد کی تخریب کیونکر قابل توجیہ ہے؟
جواب: انھوں نے صرف بقیع کو منھدم نھيں کیا بلکہ جھاں بھی گنبد و بارگاہ کو دیکھا، سوائے بارگاہ نبوی کے، سب کو منھدم کیا۔ ان کی دستاویز ایک روایت ہے کہ "لا بناء علی القبر" (قبر پر عمارت نھیں بنانا چاھئے)، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ گنبد و بارگاہ کا انھدام صاحب قبر کی توھین نھیں ہے!
عثمانیوں کے زمانے میں شھدائے بدر کے لئے اور مدینہ کے لئے گنبد و بارگاہ بنانے کا اھتمام کیا گیا۔ لیکن جب یہ وھابی برسر اقتدار آئے تو انھوں نے تمام تعمیرات کو ویران کردیا۔ وھابیوں کے اس اقدام پر علمائے اسلام کی ایک بڑی تعداد اور خاص طور پر عثمانی معترض ھوئے جنھوں نے ان گنبدوں کی تعمیر کا اھتمام کیا تھا اور دنیائے اسلام میں تنازعہ کھڑا ھوگیا لیکن انھوں نے کوئی توجہ نہ دی اور چونکہ اقتدار ان کے ھاتھ میں تھا اس لئے گنبد و بارگاہ کو منھدم کیا۔
ھم ان اقدامات کو جائز نھيں سمجھتے۔ آثار کو باقی رھنا چاھئے۔ وہ آثار جو ظاھر کرتے ہيں کہ قبر فلان شخص کی ہے، انھيں رھنا چاھئے۔ قبور ان کتبوں اور آثار سے پھچانی جاتی ہیں جو باقی رھتی ہیں۔ یہ اعمال درست نھیں ہیں۔
ابنا: آپ کے ساتھ گفتگو کھری کھری باتوں، لچک اور منطقیت کے بموجب بھت لذت آفرین تھی؛ آپ نے ھمیں موقع دیا، جس کا ھم شکریہ ادا کرتے ہیں۔
مولوی نذیر احمد: شکریہ ۔
 

Add comment


Security code
Refresh