فروشگاه اینترنتی هندیا بوتیک
آج: Thursday, 23 September 2021

www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد امت کے درمیان پیدا ہونے والا پہلا اختلاف، مسئلہ امامت وخلافت تھا جس نے امت مسلمہ کو دوحصوں میں تقسیم کردیاتھا۔ ایک گروہ حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہٴ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تسلیم کرتا تھا جب کہ دوسرا گروہ دوسرے خلفاء کا حامی اور انھیں کی خلافت کو قبول کرنے والا تھا۔ یھیں سے مسلمان دو حصوں ،شیعہ اور سنی میں تقسیم ہوگئے تھے۔

موضوع امامت اپنی اہمیت اور خصوصیت کی بنا پر ہمیشہ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان بحث و گفتگو کا موضوع رہا ہے۔ شیعہ علماء اور دانشمندوں نے اپنے مخصوص عقائد کے اثبات کے لئے بے شمار کتابیں تالیف ہیں جن میں ہزارہا دلائل و براہین کا ذکرکیا گیا ہے کہ اگر یہاں اجمالی اور سرسری طور پر بھی ان کا ذکر کیا جائے تویہ مباحث نہایت طویل ہو جائیں گے ۔

یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول متعدد وبے شمار روایات کے مطابق تعداد ائمہ معصومین علیہم السلام ، کہ ان میں سے ہر ایک یکے بعد دیگر ے راہ پیامبر کو آگے بڑھانے والے اور چراغ ہدایت ہیں، بارہ ہے جن میں سے گیارہ ا ئمہٴ طاہرین تشریف لا چکے ہیں اور ظالم وجابر بادشاہان وقت کے ذریعہ پیدا کردہ دشوارترین اور سخت ترین حالات میں دین کی حفاظت جیسے الٰہی وظیفے اور ذمہ داری کو ادا کرچکے ہیں نیز اپنی بیش قیمت زندگیاں فدائے دین کرکے مقام شہادت پر سرافراز ہوچکے ہیں۔

قرآن شریف میں امامت کے سلسلے میں کسی خاص فرد کے نام اور حسب و نسب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ شاید اس کا مقصد قرآن کو تحریف سے محفوظ رکھنا ہو یا پھر کوئی اور وجہ ہوجو ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے لیکن امامت حضرت علی علیہ السلام سے متعلق مختلف کلیات، متعدد آیتوں میں بیان گئے ہیں جنھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صریحی اورواضح طور پر اس طرح بیان اور تفسیر فرمادیا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی بھی حق کا متلاشی سرگرداں نہیں ہوسکتا۔

عقل میں چوں کہ خطا ولغزش پائی جاتی ہے لھذا وہ لوگوں کو خدا کے پیغمبروں سے بے نیاز نھیں کر سکتی ،اسی طرح امت میں  علمائے دین کی موجودگی اورانکی دینی تبلیغات ،لوگوں کو امام کے وجود سے مستغنی نھیں کر سکتے ،کیونکہ، جیسا کہ واضح ھوا کہ بحث اس میں  نھیں ہے کہ لوگ دین کی پیروی کرتے ہیں یا نھیں ،بلکہ بحث اس چیز میں  ہے کہ خدا کا دین کسی قسم کی تحریف وتبدیلی یانابودی کے بغیر لوگوں تک پھنچ سکے ۔