
کینیڈا میں انٹرنیشنل کانفرنس سےخطاب کرتے ھوئے ترکی کے وزیردفاع نے کھا کہ اندازہ یہ ہے کہ قاتل، قتل کے تین یا چار گھنٹوں کے بعد ھی ترکی سے چلے گئے اور جاتے ھوئے لاش کی باقیات بھی ممکنہ طور پر اپنے سامان میں ساتھ ھی لے گئے۔
سفارتی استثنیٰ کی وجہ سے انھیں لاش کی باقیات سامان میں ساتھ لے جانے میں مشکل بھی نھیں ھوئی ھو گی۔
انھوں نے کھا کہ ترک حکام خاشقجی کی لاش کو کیمیکل سے تلف کیے جانے کے امکانات کا جائزہ بھی لے رھے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے ان کی انتظامیہ کی رپورٹ اگلے 2 روز میں جاری کی جائے گی جس میں واضح کیا جائے گا کہ قتل کس نے اور کس کے حکم پرکیا تھا۔
امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے حوالے سے 17 نومبر کو امریکی ذرائع ابلاغ میں رپورٹس آئی تھیں کہ ایجنسی کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عھد محمد بن سلمان کے حکم پر ھوا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کھا گیا تھا کہ سی آئی اے نے مختلف خفیہ ذرائع کا جائزہ لیا، جس میں امریکا کے لیے سعودی سفیر اور ولی عھد کے بھائی خالد بن سلمان اور جمال خاشقجی کے درمیان کی فون کال بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کال میں خالد بن سلمان نے مقتول صحافی کو بتایا تھا کہ وہ استنبول میں قونصل خانے جاکر مطلوب دستاویزات حاصل کرلیں اور وہ وھاں محفوظ رھیں گے۔
جمال خاشقجی ماضی میں سعودی شاھی خاندان کے انتھائی قریب رھے مگر محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور حکومت کے ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور یمن پر جنگ مسلط کردی جبکہ قطر کے خلاف بھی محاذ گرم کیا جس پر جمال خاشقجی نے سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا۔
محمد بن سلمان کی جانب سے ناقدین کے خلاف کارروائی کے باعث جمال خاشقجی امریکا منتقل ھوگئے اور واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھتے رھے۔
خاشقجی 2 اکتوبر کو اپنی ترک منگیتر سے شادی کرنے کے لیے ضروری دستاویزات بنانے استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے چلے گئے جھاں پھلے سے ڈیتھ اسکواڈ ان کے انتظار میں بیٹھا تھا اور سعودی قونصل خانے میں ھی انھیں قتل کر دیا ۔
خاشقجی کے قاتل لاش کی باقیات ترکی سے باھر لے گئے: ترکی
- Details
- Written by admin
- Category: اھم خبریں
- Hits: 224

