www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

803553
اسلامی جمھوریہ ایران کے سینیئر ایٹمی مذاکرات کار اور نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کھا ہے کہ ایٹمی معاھدے کو باقی رکھنے کے تعلق سے یورپ نے جو وعدے کئے تھے اس نے ابھی تک پورے نھیں کئے اور ایسے میں ایٹمی معاھدے میں ایران کو باقی رکھنا یورپ کے لئے مشکل ھو جائے گا۔
ایران کے سینیئر ایٹمی مذاکرات کار اور نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بین الاقوامی نظام، علاقائی صورت حال اور ایران کی خارجہ پالیسی کے زیر عنوان چوتھی کانفرنس میں جو تھران میں منعقد ھوئی اپنے خطاب کے دوران کھا کہ یورپی ممالک اور ایٹمی معاھدے کے دیگر فریقوں کو چاھئے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ساکھ کی حفاظت کے لئے ایٹمی معاھدے میں ایران کو دیئے گئے اقتصادی فوائد کو یقینی بنائیں-
انھوں کھا کہ اگر ایٹمی معاھدے کو کوئی مشکل درپیش ھوئی تو اس صوت میں یورپ کی سلامتی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا-
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کھا کہ اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ ایٹمی معاھدے کے بغیر مغربی ایشیا کا علاقہ پرامن علاقہ بن جائے گا تو یہ اس کی بھت بڑی بھول ہے-
انھوں نے ایران مخالف امریکی پابندیوں کا ذکر کرتے ھوئے کھا کہ ایران سے نکل جانے کے لئے یورپی کمپنیوں پر امریکی وزارت خزانہ کا دباؤ عملی طور پر یورپ کی حاکمیت اور خود مختاری پر سوالیہ نشان لگا رھا ہے اور یورپی ممالک اس وقت نہ صرف یہ کہ ایٹمی معاھدے کے تحفظ میں لگے ھوئے ہیں بلکہ وہ اپنی خود مختاری کو بھی بچانے کی فکر میں ہیں-
ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس بات کا ذکر کرتے ھوئے کہ پابندیوں سے اگر چہ ایران کو نقصان ھو رھا ہے لیکن یقینی طور پر یورپ کو ایران سے کھیں زیادہ نقصان پھنچے گا-
ان کا کھنا تھا کہ اسلامی جمھوریہ ایران علاقے میں ایک اھہم اسٹیک ھولڈر کی حیثیت سے اور ساتھ ھی دھشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب تجربے اور اپنی دفاعی توانائیوں کی بدولت سربلندی کے ساتھ موجودہ صورت حال پر قابو پالے گا-
اس درمیان یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی برسلز میں یورپی یونین کے اعلی عھدیداروں کے اجلاس سے قبل سے کھا کہ یورپی یونین کا نیا مالیاتی نظام ایس پی وی جلد قائم ھونا چاھئے-
انھوں نے ایک بار پھر ایٹمی معاھدے کی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا-
واضح رھے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ آٹھ مئی کو ایٹمی معاھدے سے نکلنے اور ایران کے خلاف امریکی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا-
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا پھلا مرحلہ آٹھ اگست جبکہ دوسرا مرحلہ پانچ نومبر سے شروع ھوا ہے - ایٹمی معاھدے سے امریکا کے نکلنے کے فیصلے پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی جبکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یورپی یونین نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ایٹمی معاھدے پر کاربند رھیں گے اور اس کی حمایت کرتے رھیں گے-

Add comment


Security code
Refresh