پاکستان میں آئندہ پارلیمانی انتخابات کے نامزد امیدواروں کی اھلیت کا جائزہ لینے کے حوالے سے
الیکشن کمیشن کی کارکردگی دوھرے معیار سے دوچار ہے۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف اور اس ملک کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے کیسیز میں اس کمیشن کے الگ الگ فیصلوں پر اس ملک کے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں حیرت کا اظھار کیا جارھا ہے۔ پاکستان کے الیکشن کمیشن نے پرویز مشرف، کہ جن پر پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ھونے اور سنہ 2007 میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی بناء پر پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات ہیں اور اسی سلسلے میں انھیں عدالت میں طلب بھی کرلیا گیا ہے، کے کاغذات نامزدگی تو منظور کرلئے مگر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، کہ جن پر اقتدار سے غلط فائدہ اٹھانے کا الزام ہے اور اس بارے میں ان پر کیس دائر کیا گیا ہے، ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے ہیں جس کی بناء پر الیکشن کمیشن پر دوھرے معیار کا الزام لگایا جارھا ہے۔ پرویز مشرف اگر چہ گذشتہ چند برسوں کے دوران اپنی پاکستان واپسی کا اعلان کرتے رھے ہیں مگر اپنی گرفتاری کے خوف سے ھی وہ پاکستان جانے سے کتراتے بھی رھے۔ پرویز مشرف کے کاغذات ایسی حالت میں منظور کئے گئے ہیں جبکہ ان پر پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ھونے کا کیس چل رھا ہے اور اقتدار سے غلط فائدہ اٹھانے کے کیس کی بناء پر الیکشن کمیشن نے راجہ پرویز اشرف کے کاغذات مسترد کردیئے ہیں جس کی بناء پر پاکستان کے سیاسی و تشھیراتی حلقوں میں یہ سوال اٹھہ کھڑا ھوا ہے عدالت میں کیس جاری رھنے کی بناء پر راجہ پرویز اشرف کے کاغذات مسترد کئے گئے ہیں تو پرویز مشرف کے کیسے منظور کرلئے گئے ؟ اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کیسے یہ دوھرا معیار اپنایا گیا؟ چنانچہ اگر یہ ثابت ھوجائے کہ الیکشن کمیشن نے فوج کے دباؤ میں آکر پرویز مشرف کے کاغذات منظور کئے ہیں تو انتخابات کا عمل شدید طور پر متاثر ھوگا جس سے پاکستان میں آئندہ 11 مئی کو ھونے والے انتخاات کی مقبولیت پر بھی منفی اثرات مرتّب ھوں گے ۔

