
اسلامی جمھوریہ ایران اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے اھم ترین علاقائی مسائل منجملہ یمن میں جنگ فوری طور پر ختم کئے جانے اور علاقے کے دیگر مسائل پر بات چیت کی۔
اسلامی جمھوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور برطانوی وزیر خارجہ جرمی ھنٹ نے پیر کو تھران میں اپنی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور مختلف میدانوں میں روابط منجملہ یورپ کے نئے مالیاتی نظام ایس پی وی کے قیام سے متعلق مسائل پر گفتگو کی-
برطانوی وزیر خارجہ نے اسلامی جمھوریہ ایران کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد ایران کی اعلی قومی سیکورٹی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی سے بھی ملاقات کی-
اس ملاقات میں ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے امریکا کے ذریعے ایٹمی معاھدے کی خلاف ورزی پر یورپ کے کمزور ردعمل پر شدید تنقید کرتے ھوئے کھا کہ ایٹمی معاھدے کی خلاف ورزی واشنگٹن کے ذریعے یورپی یونین کی ساکھ اور وقار کو نقصان پھنچائے جانے کے مترادف ہے-
انھوں نے دھشت گردی کے خلاف مسلسل جنگ جاری رکھنے کے بارے میں ایران کے عزم کا ذکر کرتے ھوئے کھا کہ اگر دھشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کی قربانیاں نہ ھوتیں تو آج عراق اور شام میں داعش کی حکومت ھوتی اور داعش گروہ آج یورپ کا پڑوسی ھوتا-
انھوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی سعودی اور بحرینی حکومتوں کو برطانیہ کے ذریعے ھتھیاروں کی فروخت پر بھی تنقید کی اور یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وحشیانہ حملوں پر برطانیہ اور یورپ کی خاموشی کو انسانی حقوق کے بارے میں یورپ اور امریکا کے دوھرے معیار کی علامت قرار دیا-
برطانیہ کا وزیر خارجہ بننے اور پانچ نومبر کو ایران مخالف امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے بعد جرمی ھنٹ کا یہ پھلا دورہ ایران ہے۔
ایرانی حکام سے برطانوی وزیر خارجہ کی ملاقات
- Details
- Written by admin
- Category: اھم خبریں
- Hits: 250

